The Boy Who Cried Wolf

Find out more
about the contributors

The Boy Who Cried Wolf

An Urdu Story by Kausar Ali


وہ لڑکا جس نے     بچاؤ بھیڑیا  آیا    کا شور مچایا

ایک اردو کی کہانی (پاکستانی)

کوثر علی کی زبانی

The Boy Who Cried Wolf

An Urdu Story (Origin: Pakistan)

By Kausar Ali

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چرواہا لڑکا جس کا نام آصف تھا، پاکستان کے شمالی علاقوں کی خوبصورت وادیوں میں سے ایک میں واقع گاؤں میں رہتا تھا۔ آصف کا گاؤں در اصل  پاکستان کےمشہور پہاڑی سلسلہ کے دامن میں  واقع تھا جسے’ کوہ قرا قرم‘ کہتے ہیں۔یہ پہاڑ بہت ہی اونچے ہیں اور ان پر زیادہ سبزہ بھی نہیں ،لیکن وادیوں میں منظر اس سے مختلف ہے جہاں تیز   رو   دریا بہتے ہیں جیسا کہ دریائے سوات جو کہ برف سے لدے ہوئے پہاڑوں سے نیچے کی طرف بہتے ہوئے نہایت خوبصورت آبشار یں اور جھیلیں بناتا ہوا گزرتا ہے۔ وہاں پر سرسبز  گھاس ہے، اور موسمِ بہار میں تمام زمین خوبصورت رنگوں کے پھولوں سے بھر جاتی ہے، اور سینکڑوں ہزاروں شوخ رنگوں کی تتلیاں ہوا میں اڑتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں جو کہ اس علاقے کو جنت نشاں  بنا دیتی ہیں ۔

وہاں سے تھوڑی سی بلندی پر ایک اور گاؤں تھا جہاں پرآصف کے ماموں رہتے تھے ان کا ایک بیٹا آصف کا ہم عمر تھا جس کا نام ہمزہ تھا۔ہمزہ کے گاؤں سے نیچے کی طرف دیکھنے پر درخت اور گھر  چھوٹے  چھوٹے کھلونوں کی طرح نظر آ تے  تھے ۔ آصف جب بھی حمزہ سے ملنے جاتا وہ اس نظارے کو دیکھ کر بہت محظوظ ہوتا  ، اور  اکثر وہاں سے اپنے گھر کو دیکھنے کی کوشش کرتا جو کہ کافی نیچے  والی وادی کے گاؤں میں تھا۔ نوجوان لڑکا اس بات پر بہت متعجبّ ہوتا کہ چیزیں  نیچے وادی میں کتنی چھوٹی اور کتنی دور نظر آتی تھیں۔

آصف کےوالد  احمد کےپاس بکریوں کا ایک چھوٹا سا گلہّ تھا جنہیں وہ روزانہ صبح سویرے  چرانے   کے لئے گاؤں سے باہر  لے جاتے تھے۔آصف  کے چھوٹے سے گاؤں میں  کوئی سکول نہ تھا اس لئےاکثر  وہ اپنے والد کے ساتھ باہر  چلا   جاتا تھا۔آصف کی والدہ ہمیشہ ان دونوں کے دوپہر کے کھانے کے لئے گوشت کا سالن، چپاتیاں، اور پراٹھے  بنا دیتیں ، اور ساتھ میں بہت سی مزیدار لسیّ پینے کے لئے  دے دیتیں۔ اور وہ یہ سب سامان ایک بڑے سے چوکور مظبوط کپڑے میں گٹھڑی کی طرح باندھ دیتیں جسےآصف اپنے ساتھ حفاظت سے لے کر چلتا،اور جبتک کہ کھانے کا وقت نہ ہو جاتا اس کی دیکھ بھال کرتا۔

آصف بہت چست لڑکا تھا ، وہ تمام دن بکریوں کے پیچھے بھاگتا پھرتا اور ان کی خوب جانچ پڑتال کرتا  رہتا۔ اس کا باپ بہت خوش تھا کہ جب وہ بڑا ہو  جائےگا تو یہ تربیت آصف کو  ایک بہت اچھا چرواہا  بنا دے گی۔

دوپہر کے وقت آصف  اور اس کے والد کسی درخت کی چھاؤں تلے ایک دستر خواں بچھا دیتے اور اس پر کھانے کا سامان لگا کر کھانا  کھانے بیٹھ جاتے۔ نوجوان لڑکا ہمیشہ اپنا  پراٹھا مزے لے کر کھاتا اور  شوق سے لسیّ  پیتا۔کھانا کھاتے وقت دونوں باپ بیٹا بکریوں پر بھی نظر رکھتے تا کہ ان میں سے کوئی  اپنے گلےّ سے باہر نکل کر کہیں دور نہ چلی جائے۔

وہ دونوں ہمیشہ بکریوں کے ساتھ سورج غروب ہونے سے پہلے گھر آ جاتے کیوں کہ  گاؤں میں بجلی نہیں تھی اور   رات ہوجانےسے پہلے  انہیں رات کا کھانا بھی کھانا   ہوتا تھا۔ آصف کھانے کے بعد جلد ہی سو جاتا تھا کیوں کہ اندھیرے میں وہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے صبح سویرے اٹھ کر بکریوں کو باہر لے جانے سے پہلے ان کا دودھ بھی دوہنا   پڑتا تھا۔

آصف اس موسم میں بہت  خوش ہوتا جب کہ بکریاں اور بھیڑ  یں  بچےّ دیتیں ۔نوجوان لڑکا  بکریوں اور بھیڑوں کے میمنوں کو بہت چاہتا تھا، اور سارا  دن  ان کو اپنی بغل میں دبائے بھاگا پھرتا  اور ساتھ ہی ان کی آوازوں کی نقل کرتا رہتا   ’ مے، مے، مے،مے،مے ‘  ۔

ان دنوں حمزہ بھی  اکثر   اونچے  پہاڑی علاقے سےآصف کو ملنے آ جاتا، پھر کیا تھا  ! اب دونوں لڑکے  بکریوں کے میمنوں کو لئے پھرتے، اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر   کھانا  رکھ کر انہیں  کھلاتے اور جب  بھی موسم  بہت ٹھنڈا ہو جاتا  تو  وہ خود کو گرم رکھنے کے لئے بھی ان میمنوں کو اپنے قریب دبائے رکھتے۔

جب آصف کچھ اور بڑا ہوا تو اس کے والد نے اسے بکریوں کے گلےّ کی دیکھ بھال کی پوری ذمہ داری سونپ دی۔ حمزہ بھی اکثر آصف کے ساتھ مل جاتا،اور دونوں لڑکے صبح سویرے  بکریوں کا دودھ دوہنے کے لئے اٹھ جاتے  اور پھر اس گلےّ کو گاؤں سے باہر چرنے کے لئے لے جاتے۔ یہ دونوں کے لئے ایک طرح کا معمول بن گیا تھا، اور  آہستہ آہستہ اسی طرح دن رات گزرتے گئے۔

پھر ایک اندھیری  رات میں ایک بھیڑیے نے ایک اور کسان جو کہ قریب ہی رہتا تھا اس کی  بکریوں اور مرغیوں پر حملہ کر دیا۔ اس وجہ سے گاؤں میں دہشت پھیل گئی۔ سب کی رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ روزانہ رات کے وقت گاؤں کے دو آدمی نگہبانی کے لئے مقررّ کیے جائیں جو کہ بھیڑیے کو مار دیں اگر اس نے پھر حملہ کیا۔ پھر بھیڑیے نے واقعی دوبارہ حملہ کیا، مگر اس دفعہ  ان نگہبان آدمیوں نے اس وحشی پر گولی چلا  کر اسے مار دیا۔ اور  پھر گاؤں میں جلد ہی دوبارہ سکون اور آسودگی کا ماحول  واپس آ     گیا۔

کچھ عرصہ گذر  گیا، پھر ایک دن دونوں لڑکے چراگاہ میں ایک چٹان پر بیٹھے بکریوں کی نگہبانی کر رہے تھے جو کہ تازہ گھاس چبا رہی تھیں۔حمزہ نے آصف سے کہا،   ’ بکریاں تومزےسے گھاس چر رہی ہیں مگر ہم ہمیشہ بور ہوتے رہتے ہیں، یہ انصاف نہیں ہے‘.  آصف نے تھوڑی دیر  غور کیا پھر جواب دیا ،     ’پھر ہمیں کوئی ہوشیاری اور دلچسپی کا کام کرنا چاہیے۔ سوچو ہم کیا کریں ‘؟ 

شیطان حمزہ نے ایک کان سے دوسرے کان تک دانت دکھاتے ہوئے اورمنہ بناتے ہوئےکہا،   ’ہمیں گاؤں کے لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے کچھ کرنا چاہیئے‘۔

’ ہم یہ  کیسے کریں گے ؟‘    آصف نے پوچھا

حمزہ نے آصف کو اس رات کے بارے میں یاد دلایا ، کہ کس طرح بھیڑیے نے مرغیوں اور بکریوں پر حملہ کیا تھا اور کس طرح دو نگہبان  مردوں کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ گاؤں کی بندوقوں سے حفاظت کریں۔ ’ بھیڑیے نے پھر حملہ کیا تو ان مردوں نے اسے مار دیا !  حمزہ نے بڑے جوش سے کہا ،    اور پھر ہر  چیز   دوبارہ  پر سکون اور بور کرنے والی ہو گئی‘۔

آصف کو یاد آیا کہ واقعی وہی ایک  بات بہت دلچسپ تھی جو کہ گاؤں میں ایک عرصے کے بعد ہوئی تھیThe Boy Who Cried Wolf۔

’   تمہیں معلوم ہے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں؟‘  حمزہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔’ اگر ہم خوب چیخیں ، چلاّئیں اور کہیں  بھیڑیا پھر حملہ کر رہا ہے،  بچاؤ  !   بچاؤ   !   تب ہم دیکھیں گے کہ کس طرح گاؤں کے لوگ ہمیں بچانے کے لئے بھاگے ہوئے آئیں گے ‘۔

’   مگر جھوٹ بولنا بہت بری بات ہے ‘۔   آصف نے کہا جو کہ اپنے شریر کزن کے منصوبے کے بارے  میں زیادہ یقین نہیں رکھتا تھا۔

’  یہ تو صرف مذاق ہے۔  حمزہ نے اصرار کرکے کہا۔  کیا تم ان کے  پریشان چہرے نہیں دیکھنا چاہتے  جب وہ ہمیں بچانےکے لئے بھاگے ہوئے آ ئیں گے ؟  یہ کتنی اچھی دل لگی ہوگی‘۔

’  اور جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہاں کوئی بھیڑیا نہیں ہے، اور پھر ہمیں ان پر ہنستے ہوئے دیکھیں گےتو وہ ہم سے سخت ناراض ہو جائیں گے ‘۔ آصف نے کہا ۔ لیکن یہ کہتے ہوئے بھی آصف کو اعتراف کرنا پڑا ، کہ جیسے ہی گاؤں کے لوگ چراگاہ میں بھاگے ہوئے آئیں گے ان کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھنا واقعی بہت ہی مذاقیہ بات ہو گی۔ اسے یہ بھی اعتراف کرنا پڑا  کہ بکریوں کو تمام دن گھاس چرتے دیکھنا بھی بہت ہی  بور کرتا ہے۔

’  اچھا ‘   اس نے آخر کار کہا ،   ’ہم یہ سب کچھ کس طرح کریں گے ؟‘

پھرحمزہ نے اپنا منصوبہ بیان کیا، اور دونوں لڑکے گاؤں کے بے اندیشہ لوگوں کا خیال کرکے خود بخود ہنستے ہوئے اپنے ہاتھ خوشی سے ملنے لگے۔

دوسرے دن بکریوں کا دودھ دوہنے کے بعد دونوں لڑکے بکریوں کے گلےّ کو  چراگاہ میں چرانے لے گئے۔ پھر اپنا مزیدار  کھانا کھانے کے بعدجو کہ آصف کی والدہ نے اچھی طرح باندھ کر دیا تھا ، انہوں نے اپنا شرارتی منصوبہ  پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔

حمزہ ایک پہاڑی کے پیچھے چھپ گیا جب کہ آصف  گاؤں کی طرف بہت اونچی آواز میں  شور کرتا ہوا بھاگا ۔’  بچاؤ  !  بچاؤ  !  بھیڑیا حمزہ پر حملہ کر رہا ہے ۔۔۔ہم پر مہربا نی کیجئے۔۔۔ہماری مدد کیجئے ۔۔۔بچایئے !   بچایئے  !‘

جیسے ہی گاؤں کے لوگوں نےآصف کی چیخ  و پکار سنی، انہوں نے ڈنڈے اور کلہاڑیاں اٹھائیں اور چراگاہ کی طرف بھاگے۔ ’بھیڑیا کہاں ہے ؟‘  ایک آدمی نے پوچھا۔ ’اس نے حمزہ پر کیسے حملہ کیا ؟‘     دوسرے نے پوچھا۔   ’ کیا بھڑیا اسے گھسیٹ کر لے گیا ہے ،   جیسا کہ اس نےمیری بکریوں اور مرغیوں کے ساتھ کیا تھا  ؟  ہمیں بتاؤ حمزہ کہاں ہے  ؟ ‘ ۔

گاؤں والے ہر طرف تلاش کرنے کے بعد  زخمی لڑکے کو نہ پا کر بہت  زیادہ پریشان ہو گئے ۔

عین اس وقت حمزہ اپنی چھپنے کی جگہ میں سے کود کر باہر آ    گیا۔  ’    خوش آ مدید    !  یہاں آ نے کا شکریہ‘  ۔ نڈر لڑکے نے دانت نکال کر اپنے چہرے پرہنسی لاتے ہوئے کہا ۔’  مگر یہاں پر تو کوئی بھیڑیا نہیں ہے۔ جب میں نے اس کو بتایا کہ گاؤں والے  اسے مارنے آ  رہے ہیں تو وہ ڈر کر  بھاگ گیا ‘ ۔ پھر حمزہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو کر زمیں پر گر گیا۔ جب آصف نے گاؤں والوں کے چہروں پر پریشانی اور گھبراہٹ کے آ ثار دیکھے تو  وہ بھی ہنستے ہنستے گھاس پر گر کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ گاؤں والے لڑکوں کے ساتھ سخت ناراض ہوئے۔ اور جب وہ چراگاہ سے واپس جا رہے تھے انہوں نے عہد کیا کہ وہ آصف کے باپ کو اس کے بیٹے کی اس خبیث حرکت کے بارے میں بتائیں گے۔ جب احمد کو  اس بات کا علم ہوا جو کچھ کہ  اس کے بیٹے نے کیا تھا ،تو وہ واقعی سخت نا امید ہوا۔وہ دونو ں لڑکوں کو گھسیٹ کر گاؤں والوں کےہجوم کے سامنے لے آ یا اور  دونوں سے ان کی اس پوشیدہ شرارتی حرکت کے لئے گاؤں والوں سے معافی منگوائی، اورعہد لیا کہ آ ئیندہ کبھی بھی وہ اس قسم کی  حرکت نہیں کریں گے۔

کچھ مہینے گذر گئے اور زندگی دوبارہ معمول کے مطابق گزرنے لگی۔ لیکن  پھر ایک دن جب حمزہ اور آ صف چراگاہ میں بکریاں چرا رہے تھے تو ایک خوفناک بھیڑیا  ایک پہاڑی کے پیچھے سے آ نکلا، اور اس نے ایک بکری کو گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کی۔ حمزہ فوراً  کھڑا  ہو گیا اور بھیڑیے کو  ڈرانے کے لئے اس کے پیچھے بھا گا، لیکن خوفناک بھیڑیے نے بکری کو تو چھوڑ دیا اور اس کے بدلے حمزہ کی ٹانگ کو منہ میں پکڑ لیا۔آصف اپنے دوست کو  بھیڑیے کےگھسیٹ کر لے جاتے ہوئے دیکھ کر بہت خوف زدہ ہو گیا ، اور فوراً گاؤں کی طرف چیختا ہوا بھاگا۔ ’ گاؤں کے مہربان لوگو ، مہربانی سے جلدی آیئے،  بھیڑیا حمزہ کو گھسیٹ کر لے جا رہا ہے۔۔۔اسے بچایئے۔۔۔ مہربانی کیجئے۔۔ ہماری مدد کیجئے۔۔۔بچایئے  !   بچایئے !‘

گاؤں والوں میں سے ایک نے کہا۔’ ہم دوبارہ الوّ نہیں بنیں گے۔ جاؤ اپنی بکریوں کے پاس ‘ ۔

’ مہربانی کیجئے ‘۔۔۔آصف رویا۔’  میں سچ کہ رہا ہوں،  حمزہ کو بچایئے ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے!‘

ایک مہربان  آ دمی نے چراگاہ کے آس پاس جا کر دیکھنے کا فیصلہ کیا، اور اس نے وہاں سے حمزہ کو دیکھا کہ اس کی ٹانگ بھیڑیے کے مظبوط   جبڑوں  میں پھنسی ہوئی تھی۔ ’  آصف سچ کہ رہا ہے‘ ۔  وہ چلاّیا  ،  ’ جلدی آیئے ، اور فوراً مدد  کیجئے  ‘۔

گاؤں والوں نے اپنی لاٹھیاں اور کلہاڑیاں سنمبھالیں اور بیچارے حمزہ کی مدد کو دوڑے ۔ اور جب بھیڑیئے نے لوگوں کے اس بڑے ہجوم  کو اپنی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تو اس نےلڑکے کی ٹانگ کو چھوڑ دیا اور جنگل کی طرف غائب ہو گیا۔

دو لوگوں نے حمزہ کو اس کے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور اسے لے کر گاؤں واپس آئے۔ لڑکے کی ٹانگ بری طرح زخمی ہو گئی تھی ، اور وہ بہت درد محسوس کر رہا تھا،   آصف کی آ نکھوں میں آ  نسو  تھے۔ اس نے گاؤں والوں سے پوچھا  ’  آپ لوگ جلدی مدد کے لئے کیوں نہ آئے ؟ ‘۔   ’آپ نے میرا یقین کیوں نہیں کیا تھا  ؟‘

ایک عورت آ گے بڑھی ’  تم نے ہم سے پہلے بھی جھوٹ بولا تھا ‘۔ اس نے سمجھاتے ہوئے کہا  ۔’ اسی وجہ سےہم نے تمہارا یقین نہیں کیا۔  کیا اب تم یہ دیکھ نہیں رہے ہو کہ جھوٹ بولنا  کتنا غلط ہے؟  تمہیں کبھی بھی اس طرح کی حرکت نہیں کرنی چاہیئے کیوں کہ اس سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے ‘   ۔

آصف نےاپنے زخمی کزن کی طرف دیکھا اور گاؤں والوں کی طرف بھی ،جنہوں نے لڑکے کو بھیڑیے سے بچایا تھا، اور وہ سمجھ گیاکہ اب وہ پھر کبھی بھی جھوٹ نہیں بولے گا۔