
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہر میں ایک چھوٹا سا چوہا تھا۔ ایک دن شہری چوہا اپنے دیہات میں رہنے والے دوست کو ملنے گیا؛ جو دیہاتی چوہا تھا۔۔
دونوں چوہے بہت قریبی دوست تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہونے پر بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔۔
دیہاتی چوہا سادہ مگر فراخ دل تھا۔ اس نے اپنے دوست کو کھانے کے لیے روٹی، مکھن، پنیر اور لوبیا کی پیشکش کی۔
تا ہم جب شہری چوہے نے کھانا شروع کیا تو وہ اپنی طبیعت خراب محسوس کرنے لگا۔
'کیا تمہیں بھوک نہیں لگی؟' دیہاتی چوہے نے پوچھا۔
'بہت بھوک لگی ہے۔ مگر یہ کھانا شہر کے کھانے جیسا نہیں ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں آیا!' شہری چوہا نے کہا۔
دونوں چوہوں نے سارا دن ساتھ میں گزارا۔ وہ دیہات میں چلتے ہوئے بہت لطف اندوز ہوئے۔ جب اندھیرا چھانے لگا تو دونوں نے ایک دوسرے کو الوداع کہا۔
اپنے گھر جانے سے پہلے شہر کے چوہے نے قصبے کے چوہے کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی تا کہ وہ شہر کا بہترین کھانا کھا سکے۔
اگلے ہفتے دیہاتی چوہا دوڑتے ہوئے شہر جا پہنچا۔ اسے وہاں اپنا دوست مل گیا۔
'ہم یہاں شہر میں چھ بجے سے پہلے کھانا نہیں کھاتے،' شہر کے چوہے نے کہا۔ 'شام کا انتظار کرو اور تم دیکھنا کہ کتنا لذیذ کھانا ہوگا! یہ انتظار ضائع نہیں جائے گا!'
شام ہوتے ہی سورج ڈھلنے لگا۔ شہری چوہے نے دیہاتی چوہے کو ایک انسان کے بڑے سے گھر میں اپنا چھوٹا سا بل دکھایا۔
انسانوں نے اپنے شام کے کھانے کی میز ہر اس میٹھے ، گوشت اور پنیر کے ساتھ سجائی تھی جس کا ایک چھوٹا سا چوہا صرف تصور ب کر سکتا تھا۔ یہ جنت تھی!
چوہوں نے کیک، گوشت اور مختلف پنیروں کو کترنا شروع کر دیا۔ دیہاتی چوہے کو گلا ہوا ہیم اور سلامی بہت پسند آیا۔ وہ اسے کترتا رہا۔
جیسے ہی چوہوں کواپنا پیٹ بھرا ہوا لگا انہوں نے بھونکنے کی آواز سنی۔
'یہ کیا ہے؟' دیہاتی چوہا چلا کر بولا۔ وہ اونچی آواز سے ڈرتا تھا۔
'او ہو! یہ محافظ کتا ہے! بھاگو!‘شہر کے چوہے نے پکارا
دونوں بہت تیزی سے بھاگے اور وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ دیہاتی چوہا شہری چوہے کا پیچھا کرتے ہوئے بل میں جا پہنچا۔
بوہ بال بال بچ گۓ۔ کتا تقریبا انہیں پکڑ ہی چکا تھا۔
'معافی چاہتا ہوں شہری چوہے لیکن میں اب گھر جا رہا ہوں! ملتے ہیں!‘ دیہاتی چوہا ہانپتے ہوئے بولا
'کیوں؟ کیا آپ مزید لذیذ کہانا نہیں کھانا چاہتے؟' شہر کے چوہے نے پوچھا
'میں خطرے میں رہ کر گوشت اور میٹھا کھانے کے بجائے امن کے ساتھ روٹی، پنیر اور لوبیا کھانا پسند کروں گا ۔' دیہاتی چوہے نے کہا۔
Enjoyed this story?