
ایک یونانی کہانی

*
بہت پہلے اور بہت دور، پہاڑ اولمپس کی بلندی پر بادلوں کے درمیان ، دیوتا خوشی اور جھگڑے کی زندگی کا مزہ اٹھاتے تھے۔ جب بھی وہ آپس میں لڑتے لڑتے تھک جاتے تو وہ اپنا دھیان لوگوں کے ساتھ کھیلنے میں لگاتے جیسا کہ آپ اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔
ایک دن دیوتاؤں نے پینڈورا نامی ایک خوبصورت عورت بنائی جس کو وہ پرومیتھیس کے پاس لے گئے۔ وہ جانتا تھا کہ دیوتا اس کے ساتھ ناراض تھے کیونکہ اس نے دیوتاؤں سے آگ چرا کر انسانوں کودے دی تھی۔ پرومیتھیس کو خوف تھا کہ دیوتا اسے دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ اس سے بدلہ لے سکیں۔ اس لیے اس نے اس کو پوری طرح نظر انداز کیا۔
تاہم اس کا بھائی ایپیڈیمس خوبصورت پینڈورا کی محبت میں گرفتار ہو گیا اور اس سے شادی کا فیصلہ کیا۔ وہ جوڑا ہنسی خوشی زندگی گزار رہا تھا جب تک۔۔۔۔ ایک دن مرکری جو دیوتاؤں کا پیغام رساں تھا، ان کے پاس ایک پراسرار ڈبہ لے کر آیا۔ اس نے پینڈورا اور اس کے شوہر کو کہا کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں اس ڈبے کا خیال رکھیں ۔ جانے سے پہلے اس نے ان دونوں سے وعدہ لیا کہ وہ کبھی اس کے اندر نہیں دیکھیں گے۔

کئی دنوں تک پینڈورا اس ڈبے سے اپنی نظر نہ ہٹا سکی۔ وہ ہر وقت تجسس میں رہتی تھی کہ اس ڈبے کے اندر کیا ہے۔ کیا یہ چمکدار جواہرات، شاندار ملبوسات، اور سنہری سکوں سے بھرا ہوا ہو سکتا ہے؟ جب بھی ایپیتھیمس وہاں نہ ہوتا اور کوئی بھی پاس نہ ہوتا تو پینڈورا ہلکے سے اس ڈبے کے پاس آتی اور اپنی انگلیوں کو پالش کی ہوئی لکڑی اور سنہری کنڈوں پر پھیرتی۔ تاہم ایک دن جب ایپیتھیمس شکار کے لیے گیا ہوا تھا تو اس سے مزید برداشت نہ ہو سکا۔ اس کا تجسس اس پر ہاوی ہو گیا۔ یہ یقینی بنانے کے بعد کہ کوئی اسے نہیں دیکھ رہا وہ چپکے سے اس ڈبے کے پاس آئی۔ آہستہ سے کنڈوں کو کھولا ، ڈبے کا ڈھکن اٹھایا اور اندر دیکھا۔
وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ نہ تو اس میں کوئی چمکدار جواہرات نہ شاندار ملبوسات اور نہ ہی سنہری سکے تھے۔ بلکہ دیوتاؤں نے اس ڈبے کو تمام برائیوں سے بھر دیا تھا جو آج انسان جانتے ہیں۔ بیماری، مصائب، اور موت سب جھپٹ کر باہر نکلی اور اس سے ڈنگ مارتے ہوئے اڑ گئیں۔ پینڈورا خوف اور درد سے بار بار چیختی رہی۔ ایپیتھیمس نے اسے چیختے ہوئے اس وقت سنا جب وہ گھڑ سواری کرتے ہوئے احظہ میں داخل ہوا۔ وہ اپنے گھوڑے سے لپک کر بھاگتے ہوئےاس کی مدد کے لیے گیا۔ اس نے اسے اپنے بازو میں لے کر دلاسا دیا جب کہ ساری برائیاں اڑ کر محل سے باہر چلی گئیں اور زمین پر پھیل گئیں۔

اس کی سسکیوں کے درمیان پینڈورا اور ایپیتھیمس نے ڈبے میں سے ایک ننھی سی آواز سنی۔'مجھے باہر نکلو! مجھے باہر نکالو!‘ اس بات کا یقین ہوتے ہوئے کہ ڈبے کے اندر کوئی بھی چیز باہر نکلی ہوئی ہولناکیوں سے بدتر نہیں ہو سکتی، انہوں نے ایک بار پھر ڈھکن کھول دیا
اس کے اندر صرف ایک مرجھائی ہوئی تتلی تھی جو کہ کونے میں کانپ رہی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے چمک دار پر کھولے اور پینڈورا پر پھیرے جس سے اس کے زخم ٹھیک ہو گۓ ۔ یہ خوبصورت تتلی امید تھی جس کو مرکری نے برائیوں کے درمیان انسانوں پر رحم کھاتے ہوئے اس وقت چھپایہ تھا جب اسے احساس ہوا کہ دیوتا کیا چال چل رہے ہیں۔
Enjoyed this story?