KidsOut World Stories

روبن ہڈ Mary Smith    
Previous page
Next page

روبن ہڈ

A free resource from

Begin reading

This story is available in:

 

 

 

 

روبن ہڈ

ایک روایتی انگریزی کہانی

 

 

سات سو سال پہلے روبرٹ آف لاکسلے نامی ایک نوجوان رہتا تھا جسے اس کے دوست روبن بلاتے تھے.

رابن اپنی ماں کے ساتھ لاکسلے منور میں رہتا تھا، مگر اس کے والد ایک فوجی تھے اور وہ دور بیرون ملک لڑنے کے لیے گۓ ہوۓ تھے۔ جنگ ایک ایسے ملک میں تھی جہاں بادشاہ، رچرڈ دی لائن ہارٹ، ایک دشمن سے لڑ رہا تھا۔

جب بادشاہ رچرڈ بیرون ملک لڑائی میں مصروف تھا تو اس نے اپنے بھائی کو برطانیہ کی حکومت کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ریچرڈ کے بھائی کا نام جون تھا لیکن وہ ایک اچھا آدمی نہیں تھا بلکہ وہ بہت ہی لالچی تھا۔ جون رچرڈ سے زیادہ زمین اور جاگیر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ جب روبن کے والد جیسے زمیندار لوگ بادشاہ کے ساتھ بیرون ملک تھے تو جون نے ان کی زمینوں اور جاگیروں کو ہتھیا لیا۔

ایک دن شہزادہ جون نے لاکسلے کی جاگیر کو ہتھیانے کے لیے اپنےآدمیوں کو بھیجا۔ روبن ، اس کی ماں اور وہاں کام کرنے والے سارے مزدور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ روبن اپنی ماں کو اس کے والدین کے پاس محفوظ رہنے کے لیے چھوڑ آیا۔

روبن کو اس بات کا بہت غصہ تھا کہ اس کے والد کے گھر اور زمین کو ہتھیا لیا گیا ہے۔ اس نے ان لالچی آدمیوں سے انتقام لینے کی قسم کھائی۔ اسے اپنی پیاری میریان کو چھوڑنے کا بہت دکھ تھا جو کہ قریب ہی رہتی تھی۔ وہ نوٹنگہم میں رو پوش ہو گیا اور شیر وڈ کے جنگل میں رہنے لگا۔

روبن کے ساتھ اور آدمی بھی آگئے اور جلد ہی وہاں پر دوستوں کا  ایک گروہ بن گیا جو چھپ کر رہ رہے تھے۔ ان کو میری مین کہا جاتا تھا اور وہ سبز رنگ کے کپڑے پہنتے تھے تاکہ وہ جنگل کےسبز پتوں میں آنکھوں سے اوجھل ہو کر  چھپ سکیں۔

وہ سب سبز رنگ پہنتے تھے سواۓ روبن کے دوست ول کے ۔وہ لال رنگ کے کپڑے پہنتا تھا تاکہ وہ چھپے تو خزاں کا پتہ لگ سکے۔روبن اسے اس کے لال  کپڑوں کی وجہ سے ول اسکارلٹ کہتا تھا ۔ ول روبن کو اس کی جیکٹ پر لگی ہوئی ہڈ کی وجہ سے روبن ہڈ کہتا تھا ۔ 

جتنے بھی آدمیوں نے روبن کے ساتھ شمولیت اختیار کی وہ سب بہترین تیر انداز تھے – وہ تیر کو بالکل  سیدھا اور بہت دور حدف کے عین مرکز تک پہنچاسکتے تھے۔

 جب بھی شہزادہ جون کے لالچی آدمی شیروڈ کے جنگل سے گزرتی ہوئی سڑک سے گزرتے روبن ہڈ اور اس کا ساتھی میری مین کا گروہ باہر نکل کر انہیں پکڑ لیتے تھے۔

'آؤ ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ ،' وہ ایسا کہتے اور اسے لذیذ کھانے کی پیشکش کرتے۔کھانا کھا نے کے بعد روبن ہڈ اس سے کھانے کی قیمت ادا کرنے کا کہتا ۔ اور پھر روبن کے آدمی اسے واپس بھیجنے سے پہلے اس کے بیگ میں سے سونا اور چاندی نکال لیتے۔

ناٹنگھم کے شیرف کو اس کے جنگل میں ہونے والی چوری پر بہت غصہ آیا، لیکن وہ رابن ہڈ اور اس کے میری مین کو کبھی نہیں ڈھونڈ سکا کیونکہ وہ بہت اچھی طرح سے چھپے ہوئے تھے۔

لالچی آدمیوں سے جمع کیے جانے والے خزانے میں سے روبن اور اس کے آدمیوں نے ایک ٹکا بھی اپنے پاس نہیں رکھا۔ بلکہ اسے ان سب غریب لوگوں میں تقسیم کر دیتے جنہیں وہ جانتے تھے - یہ وہی لوگ تھے جو لالچی شہزادہ جون اور اس کے آ¬دمیوں سے لٹ جانے کی وجہ سے اپنا سب کچھ کھو چکے  تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ مزید لوگ انصاف کی جنگ لڑنے کے لیے روبن ہڈ کے ساتھ شمولیت کرنے لگے۔ ان میں سے ایک ادمی چھوٹا جون بھی تھا۔ وہ دو میٹر سے لمبا تھا اور بڑے زبردست انداز میں لمبے پول کا استعمال کرتے ہوئے لڑ سکتا تھا۔ 

'تمہارا نام بڑا جون ہونا چاہیے کیونکہ تم بہت لمبے ہو،' رابن ہڈ ہنسا۔ ’'میں تمہیں چھوٹا جون کہوں گا مذاق کے طور پر!‘ باقی سب بھی اسے چھوٹا جون کہتے تھے۔

میری مین میں شامل ہونے والا ایک دوسرا آدمی ایلن ایڈل تھا وہ ایک گلو کار تھا اس لیے وہ موسیقی بجاتا اور گانے گا کر روبن اور اس کے آدمیوں کے لیے تفری مہیا کرتا۔

ایک دن فریئر ٹک نامی ایک راہب شیرووڈ جنگل میں لاکسلے کے رابن کی تلاش میں آیا۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان عورت تھی۔

'میریان!' انہیں دیکھتے ہی روبن بولا

فریر ٹک نے تفصیلات بتائیں:

'میرین کا باپ اپنی بیٹی کی شادی ایک بوڑھے امیر آدمی سے کرنا چاہتا تھا۔لیکن میریان رونے لگی اور کہا کہ وہ اس سے شادی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ایک دوسرے آدمی سے پیار کرتی ہے۔اس کا سچا پیار روبن آف لاکسلے ہے۔میں جانتا تھا کہ روبن شیر وڈ کے جنگل میں چھپا ہوا ہے تو میں میرین کو بچا کر یہاں لے آیا تاکہ وہ اپنے سچے پیار سے شادی کر سکے۔'

میرین اور روبن خوشی سے گلے ملے اور فیریئر ٹک اور میریان نے بھی میری مین میں شمولیت اختیار کر لی۔

آخرکار ایک دن روبن وڈ تک بہت بری خبر پہنچی۔

'بادشاہ ریچڑ کو بیرون ملک پکڑ لیا گیا ہے۔اس کو اغوا کرنے والا بادشاہ کو صرف اس صورت میں رہا کرے گا جب سونا اور چاندی کا تاوان ادا کیا جائے،' قاصد نے کہا، 'لیکن شہزادہ جون نے اعلان کیا کہ وہ اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے ایک پیتل کا ٹکا بھی نہیں دے گا اور وہ اپنے بھائی کی آزادی کے لیے سونا یا چاندی تو بالکل بھی نہیں دے گا۔'

'یہ اس لیے کیونکہ وہ خود برطانیہ کا بادشاہ بننا چاہتا ہے!' روبن ہڈ نے نفرت سے کہا۔

تا ہم میری مین کے پاس ایک زبردست منصوبہ تھا۔ 'ہم جتنے بھی غریب لوگوں کو جانتے ہیں انہیں ان کی ہر ضرورت کے لیے کافی رقم دے دی گئی ہے، اس لیے ہمارے خزانے میں اب جو پیسہ ہے اس سے بادشاہ رچرڈ کی آزادی خریدی جا  سکتی ہے۔'

چنانچہ شہزادہ جون کو اپنا منصوبہ بتائے بغیر روبن اور اس کے آدمیوں نے چاندی اور سونے کا تاوان ادا کر دیا۔

کچھ ہفتوں بعد ایک نامعلوم جنگجو شیروڈ کے جنگلوں میں آیا۔ اس نے مکمل سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ وہ روبن ہڈ سے ملنا چاہتا ہے۔

'تم کون ہو؟' روبن نے پوچھا

'میں کالا جنگجو ہوں۔' جواب آیا۔

جب جنگوجو نے اپنا ہیلمٹ اتارا تو روبن نے اسے پہچان لیا۔

'بادشاہ رچرڈ!' روبن ہانپ کے بولا۔ روبن نے اپنے بادشاہ کے احترام میں اپنا سر جھکایا۔ میری مین اور میریان نے بھی اپنا سر ادب میں جھکایا۔  

'میں تمہارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں اس تاوان کے لیے جس سے تم نے میری آزادی خریدی،' بادشاہ نے کہا۔ 'میں نے سنا ہے کہ کس طرح میرا بھائی جون میرے تخت پر انصاف سے حکومت کرنے میں ناکام رہا ہے۔مجھے اس کے لالچ کے بارے میں معلوم ہوا اور اس بات کا بھی علم ہے کہ کس طرح اس نے لوگوں کی زمین اور گھر چھینے ہیں۔میں اس کے ساتھ نپٹ لوں گا اور اسے سزا دوں گا ۔آپ سب لوگ  جنہوں نے اپنے جائیداد اور گھر کھوئے ہیں میں وہ سب گھر اور جائیداد واپس کر دوں گا ۔ تاکہ آپ اور آپ کے خاندان دوبارہ وہاں  رہ سکیں۔'

روبن میریان اور تمام میری مین نے اپنے بادشاہ رچرڈ دی لائن ہارٹ کے ساتھ وفا نبھانے کا وعدہ کیا۔

روبن اور اس کے میری مین کی اپنے بادشاہ کے ساتھ وفا نبھانےکی یہ داستان نسل در نسل تک سنائی گئی ۔ اس طرح، سات صدیوں بعد، ہم اب بھی لاکسلے منور کے رابن کی کہانی جانتے ہیں۔۔

Enjoyed this story?
Find out more here