
ایک بنگالی کہانی۔

*
اہرسی، ایک بڑا بنگالی باگھ، گہری سوچ میں مشغول تھا۔ سردی کے دن تھے مگر وہ ابھی تک اپنے پنجوں کے تلووں پر برف کے احساس کا عادی ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ منگروو کے کیچڑ کے گرم پانی کو یاد کرتے ہوئے ہلکا سا کانپا۔
اہرسی کو بہت سی چیزوں کی یاد آ رہی تھی۔ وہ یاد کر رہا تھا کہ کس طرح سورج سے اس کی چمڑی چمکدار نارنجی رنگ میں کھل جاتی تھی، اور کس طرح دوپہر کی روشنی میں اس کی کالی پٹّیاں آسمانی بجلی کی دھاروں کی طرح تیز اور پر کشش دکھائی دیتی تھی۔ وہ شام کی گرمائش میں سونا اور جنگل کی دھاروں سے گزر کر آتی ہوئی سورج کی روشنی کی آخری کرنوں کو دیکھنا یاد کر رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا وہ دوبارہ کبھی درختوں کی شاخوں پر ڈوئل پرندے کو چہچہاتے ہوئے سن سکے گا یا پھر ہوا کے جھونکوں کے ساتھ آنے والی پکے ہوے آموں کی خوشبو کو وہ سونگھ پائے گا۔ یہ وہ عارضی دلکش لمحے تھے جن کی بنگالی باگھ اپنے ذہن میں تصویر بنانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا۔ اہرسی کو اپنے گھر کی یاد آتی تھی۔
جب اس نے ایک لمبی آہ بھری تو اس کی مونچھیں چمک اٹھیں اور کالے تلیر جو برفای زمین پر چونچیں مار رہے تھے وہ سرمئی آسمان میں بکھر گئے۔
تین گھنٹے گزر چکے تھے۔اگرچہ وہ سوچنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہا تھا مگر وہ صرف آموں اور منگروو کی کچھ دھندلی تصویروں کو یاد کر پایا تھا۔ وہ پریشان تھا کیونکہ وہ اپنے پرانے گھر کے بارے سب بھول رہا تھا۔
جب اہرسی پہلی بار اپنے ماں اور باپ کے ساتھ برطانیہ کے چڑیا گھر میں پہنچا تھا تو سب کچھ ولولہ انگیز تھا۔ اسے بہت لطف آیا ؛ اس کی گہرے پیلے رنگ کی آنکھیں تجسس سے چمکتی تھیں جب وہ ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگاتا تھا یا ہر پھول کو سونگتا تھا یا اپنے پنجوں سے چھوٹے کیڑوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا تھا۔
'اب بس سکون کرو، اہرسی،' اس کی ماں اس سے کہتی۔ 'تم بہت لمبا سفر کر کے آئے ہو۔ کھوجنےکے لیے ابھی تمہارے پاس بہت وقت ہے؛ ابھی تمہیں آرام کرنا چاہیے۔'
مگر ننھے باگھ کے پاس آرام کرنے کا وقت نہیں تھا۔ وہاں ملاقات کے لیے نئے جانور ، اور چڑھنے کے لیے نئےدرخت تھے۔ اس کے پاس اپنے نئے گھر کے بارے میں جاننے کے لیے بہت کچھ تھا۔پہلے دن کا سورج غروب ہونے سے پہلے، جنتی پرندوں کے نادر رنگوں کو آنکھوں میں جذب کرتے ہوئے، اور گینڈے کے پنجرے سے آنے والی گھاس کی غیر مانوس اور میٹھی خوشبو کو سونگھتے ہوئے، اہرسی تمام جانوروں سے سوال پہ سوال پوچھتے ہوۓ ان کے پنجروں کا دورہ کر چکا تھا۔
مگر جتنا اہرسی اس جگہ کو دریافت کرتا جا رہا تھا، اتنا ہی اسے احساس ہوتا جا رہا تھا کہ یہ جگہ اس جگہ سے کتنی مختلف ہے جہاں سے وہ آیا تھا۔ اور اب چھوٹا باگھ اس فکر میں مبتلا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے اصل گھر کی قیمتی یادوں کو بھلا دے گا۔ وہ فکر مند تھا کہ وہ اپنے بنگالی باگھ ہونے کے بارے میں سب کچھ بھول جائے گا۔
*
اہرسی نے اپنی آنکھوں کو زور سے میچا، اور اپنی دم کو دونوں طرف ارادہ تن ہلانے لگا۔ 'یاد کرو،' اس نے خود سے کہا۔ 'مزید سوچنے کی کوشش کرو!'
گھنٹوں گزر گئے دن شام میں ڈھل گیا اور سارے جانور رات میں سکون کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد اہرسی کو احساس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش پر توجہ مرکوز رکھتے ہوۓ ایک آنکھ کھولی اور یاد کرنے کی کوشش کرتا رہا؛ بس یاد کرنے کی کوشش ۔ یہ زوڈی تھا ایک تیندوا۔
'تمممم کیا کر رہے ہو؟' ایک گہری، مدھم آواز آئی۔
'میں یاد کر رہا ہوں،' اہرسی نے کہا۔ 'اگر تم برا نہ مانو تو۔۔۔' اہرسی نے یہ کہہ کر پھر سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور مزید یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
'یاد کر رہا ہوں ا؟' زوڈی نے کہا۔
'ہاں۔ میں بنگالی باگھ ہونے کے بارے میں سب کچھ بھول چکا ہوں۔ اور یہ بھی بھول چکا ہوں کہ میں کہاں سے آیا ہوں اس لیے اب میں یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس سے پہلے کہ یہ میں ہمیشہ کے لیے بھول جاؤں۔ اب اگر تم برا نہ مانو تو۔۔۔'
ارہسی نے پھر سے اپنی آنکھیں میچ لیں اور اپنے گھر کو تصور میں لا کر یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
'تم اپنی بند آنکھوں کے ساتھ زیادہ دور نہیں جا پاؤ گے،' زوڈی نے کہا۔
اہرسی نے اپنی انکھیں پوری کھولیں اور کافی غصے میں دکھائی دینے لگا۔ 'میں تب تک کہیں نہیں پہنچ پاؤں گا جب تک تم مجھے سوچنے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑ دیتے!' اس نے کہا۔ 'تم اس بات کو نہیں سمجھ پاؤ گے کیونکہ تم بنگالی باگھ کیا تم تو کیا عام باگھ بھی نہیں ہو! تم ایک تیندوے ہو!'
'تم بیوقوف جانور!' زوڈی نے ہنستے ہوئے کہا۔ 'ادھر دیکھو!' اس نے سخت زمین پر برف کے ایک چمکدار ٹکڑے کی طرف اشارہ کیا۔
اہرسی نے الجھن کا شکار ہو کر مڑ کر زوڈی کو دیکھا۔ 'مجھے لگتا ہے زوڈی کہ تم تھوڑے پاگل ہو چکے ہو۔' اس نے کہا، اور اس وقت وہ خود بھی اس پر ہنسنا چاہتا تھا۔
'اگر تم واقعی ہی یاد کرنا چاہتے ہو کہ باگھ ہونا کیسا ہوتا ہے تو ادھر دیکھو،' زوڈی نے رحم بھری آواز میں اس سے کہا۔
'ٹھیک ہے اگر تم مجھے اکیلا چھوڑ دو تو میں دیکھوں گا۔'
*
اہرسی نے اپنی گردن کو جھکایا اور زمین پر شفاف برف کے آئینے میں خود کو دیکھا۔زوڈی نے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ پھیرا۔
'تمہارے جسم پر کتنی خوبصورت پٹّیاں ہیں،' اس نے کہا۔ 'میں جب آئینے میں دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے دھبے نظر آتے ہیں۔ کسی کے پاس بھی میرے جیسے دھبے نہیں ہیں۔
میری ماں کے جسم پر بھی دھبے تھے اور اس کی ماں کے اور میری ماں کی ماں کی ماں کے۔۔۔ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب میری ماں کی نانی جنوبی افریقہ کے گھاس پر چلتی تھی۔
اہرسی نے دیکھا کہ زوڈی کی آنکھیں سورج میں بھنے ہوئے میدان اور اپنے علاقے کے تازہ سبز جنگل کو یاد کرتے ہوئے چمک اٹھیں۔ 'جب بھی میں اپنے دھبوں کو دیکھوں،' اس نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا، 'مجھے اپنی ساری تاریخ یاد آتی ہے۔ میرے یہ دھبے ہمیشہ رہیں گے۔' اس نے آنکھ مارتے ہوئے اہرسی سے کہا۔ 'آخر کار،' اس نے کہا، 'تیندوے کبھی بھی اپنے دھبوں کو نہیں بدلتے!'
'مگر کیا تمہیں کبھی گھر کی شدید آرزو یا اداسی نہیں ہوتی؟' نوجوان باگھ نے دھیمی آواز میں پوچھا! ' یہاں ہر چیز بہت مختلف ہے۔'
'ہم سب گھر کی دوری سے پریشان ہوتے ہیں،' زوڈی نے برف میں پنجے مارتے ہوئے کہا، 'یہاں دیکھو ہمارے عکسوں کو۔ ہم زیادہ مختلف نہیں ہیں۔تم بنگال سے ہو اور میں افریقہ سے مگر دیکھو ہمارے پاس ایک جیسی مونچھیں ہیں۔ اور ادھر دیکھو۔۔۔' زوڈی نے اپنے تیز پنجوں سے برف کے اوپر ایک دندانہ دار لکیر کھینچی اور پھر ان کو ہوا میں لہرایا تو وہ مدھم ہوتی ہوئی روشنی میں چمکنے لگے۔ 'ہم دونوں کے پاس یہ ہیں،' اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اور تبھی چڑیا گھر کے مشرقی کونے سے ہاتھیوں کے احاطہ سے زبردست چنگھاڑنےکی آواز آئی۔
'خیر یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے،' اہرسی نے کہا۔ 'ہم دونوں بلیاں ہیں۔ مگر میں ان ہاتھیوں کی طرح بالکل نہیں ہوں۔ کیا میں ہوں؟'
زوڈی نے قہقہ لگایا۔ 'وہ بے شک مختلف نظر آتے ہیں اور ان کی اواز مختلف ہے۔ مگر میں شرط لگا سکتی ہوں کہ ہاتھیوں کو بھی گھر کی شدید یاد آتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو تم میں مشترک ہے۔'
اہرسی غیر یقینی کیفیت میں نظر آرہا تھا کیونکہ وہ اس کا خیال تھا کہ ہاتھی اتنے بڑے اور اتنے مضبوط ہیں کہ وہ اداس نہیں ہو سکتے۔ 'میں شرط لگا سکتا ہوں کہ انہیں ابھی بھی یاد ہے کہ وہ کہاں کے بسنے والے ہیں،' اس نے کہا۔ 'میری ماں نے مجھے بتایا تھا کہ ہاتھی کبھی نہیں بھولتے۔'
زوڈی نے پھنکارانے جیسی آواز نکالی اور پھر اس نے قہقہہ لگایا اور سخت زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ 'یہ سچ ہے!' اس نے تسلیم کیا۔ 'ہاتھی کبھی نہیں بھولتے۔'
'اور میں شرط لگا سکتا ہوں کہ زیبرا کبھی نہیں ڈرتے،' اہرسی نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔وہ اب بھی تھوڑا بہت غصے میں تھا لیکن اپنے دوستوں کی حرکتوں پر ہنسنے لگا۔
'کیا تم نے انہیں چڑیا گھر کا خیال رکھنے والے ملازموں کے ٹریکٹر سے دور بھاگتے نہیں دیکھا؟' زوڈی نے پوچھا۔
'اور۔۔۔۔ اور مگر مچھ؟ کیا وہ بھی خوفزدہ اور اداس ہوتے ہیں؟' اہرسی نے پوچھا
'کیا تم نے ان کو پانی میں چھپتے ہوئے نہیں دیکھا؟' زوڈی نے اپنے دوست کو ناک سے کھیلنے کے انداز میں چھوتے ہوئے کہا۔' ہم سب گھر کو یاد کرتے ہیں، اہرسی۔اور اسی لیے ہم سب مختلف نظر آتے ہیں۔ ہم اس لیے مختلف ہیں تاکہ ہم یاد رکھ سکیں۔میری طرف دیکھو میرے پاس یہ خوبصورت دم ہے اور یہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ ہم تیندوے درختوں پر اپنا توازن برقرار رکھنے میں بہترین ہیں۔'
اہرسی اب بہت بہتر محسوس کر رہا تھا۔اور وہ گہری اواز میں گڑگڑاہٹ کے ساتھ غرانے لگا۔ 'اور میرے پاس ہمیشہ یہ پٹّیاں ہوں گی لمبی گھاس میں چھپنے کے لیے۔ہم باگھ پورے بنگال میں سب سے بہترین شکاری ہیں!'
'تم جہاں بھی جاتے ہو تمہاری پٹّیاں تمہارے ساتھ جاتی ہیں، اہرسی،' زوڈی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
'اور جب ہاتھی اداس ہوتے ہیں تو وہ اپنی سونڈ کو دیکھ سکتے ہیں یہ یاد رکھنے کے لیے کہ وہ پانی میں چھپاکے مارنے میں بہترین ہیں،' اہرسی نے کہا۔'اور جب مگرمچھ اداس یا ڈرے ہوئے ہوں تو وہ اپنے جالے والے پاؤں کو دیکھ سکتے ہیں یہ یاد رکھنے کے لیے کہ وہ دریا میں سب سے تیز ہیں۔۔۔'
نوجوان باگھ تھوڑا پیچھے ہٹا۔ اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں اور اس نے بنا دیکھے جمائی لی۔ اب شام ہو رہی تھی اور چڑیا گھر بہت سے جانوروں کی آوازوں سے زندہ تھا۔کچھ دھبوں والے تھے اور کچھ پٹّیوں والے۔ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے جیسا نہیں تھا۔جیسے ہی رات ہوئی تو آسمان پر لاکھوں ستارے آگئے۔اہرسی کو یہ بات سمجھ آگئی کہ بے شک سب جانور دیکھنے میں مختلف ہیں لیکن کبھی کبھار وہ سب ایک جیسا محسوس کرتے ہیں۔اور تب اسے یہ پتہ چلا کہ اب وہ کبھی اکیلا محسوس نہیں کرے گا اور تب اسے پتہ چلا کہ وہ اپنے گھر کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھے گا۔
Enjoyed this story?