KidsOut World Stories

ہاتھی اڑ کیوں نہیں سکتے Becky Walker    
Previous page
Next page

ہاتھی اڑ کیوں نہیں سکتے

A free resource from

Begin reading

This story is available in:

 

 

 

 

ہاتھی اڑ کیوں نہیں سکتے

ایک ہندی کہانی

 

 

 

 

 

*

بہت عرصہ قبل، زیادہ تر لوگوں کو جہاں تک یاد ہے اس سے بھی زیادہ پہلے ، ہاتھی اڑ سکتے تھے! ان کے چار قوی ہیکل پر تھے اور وہ آسمان میں اتنی تیزی سے گھومتے تھے کہ دوسرے جانور حیران رہ جاتے تھے۔ لیکن یہ بڑے درندے بعض اوقات احمق بھی ہوتے تھے۔ لیکن شش… دوسرے جانور اس کے بارے میں خاموش رہتے اور کبھی اسکے بارے میں بات نہیں کرتے۔

کیونکہ ہاتھی اتنے تیز اور اتنے مضبوط تھے کہ خدا نے ان کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ ان بڑے درندوں کے اوپر سواری کر سکتا تھا اور وہ خدا کو دنیا کو حتمی شکل دینے میں مدد کرتے تھے۔ ایک ہی لمحے میں وہ چائنہ میں ہو سکتا تھا اور آنکھ جھپکتے ہی وہ ائس لینڈ میں پہنچ سکتا تھا!  یہ ہاتھی اتنے مضبوط تھے کہ یہ پہاڑوں اور برفانی تودوں کو تب تک دھکیلتے رہےجب تک دنیا ایک کامل شکل میں نہ آ گئی۔

مثال کے طور پر انہوں نے ہمالیہ کو انڈیا میں لانے کے لیے خدا کی مدد کی– اور تنزانیہ میں، ان کے پاس کلیمنجارو پہاڑ تھا۔

ان ہاتھیوں پر سواری کر کے خدا نے دنیا کو مکمل کیا اور اسے کامل شکل دی۔

جب یہ بڑا کام تکمیل کو پہنچا تو خدا نے ہاتھیوں سے کہا کہ تم اب ہمیشہ کے لیے چھٹی پہ جا سکتے ہو۔ ھمم…  جب تک کہ اس کے پاس ان کے لیے کچھ اور کرنے کے لیے نہ ہو۔

اب ہاتھیوں کے پاس کرنے کے لیے کچھ خاص نہیں تھا۔ اور پھر آپ کو پتہ ہے کہ کیا ہوا؟ ہاتھی بیکار ہو گئے اور اپنا وقت گزارنے کے لیے اپنے پرانے دنوں کی باتیں کرنے لگے۔ وہ اس بارے میں بات کرتے کہ وہ کتنے مضبوط تھے۔ اور وہ اس بارے میں بات کرتے تھے کہ وہ کتنے تیز تھے اور خدا نے ان پر کتنے احسانات کیے تھے۔ اور وہ جتنا زیادہ بات کرتے وہ اتنا ہی زیادہ سوچتے کہ وہ زمین پر دوسرے جانوروں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔

وہ یقینا سب سے اہم تھے!

ہاتھی اپس میں بات چیت کرتے رہتے۔ 'اس مور کو دیکھو،' وہ بے رحمی سے کہتے۔ 'اس کے پر ہمارے پروں کی نسبت کتنے گندے اور بھورے ہیں!' اور وہ اپنی آوازیں ہمیشہ بلند رکھتے تا کہ چھوٹا مور ان کی گھٹیا بات کو سن لے۔ 

بیچارا مور جو کہ دل سے بہت ہی رحم دل اور عاجز تھا ہاتھیوں کے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے سوچا، 'ہاتھی صحیح کہہ رہے ہیں۔ میں چھوٹا ہوں اور میرے پر پریوں کی طرح خوبصورت نہیں ہےں اور نہ ہی میں ہاتھیوں کی طرح مضبوط ہوں۔'

 وقت گزرتا گیا ہاتھی مغرور ہوتے چلے گئے۔ وہ سمجھنےنے لگے کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔لا لچی ہاتھی کیلے کے پیڑ سے سارے کیلے لے لیتے اور دوسرے جانوروں کے لیے کچھ نہیں چھوڑتے۔ دوسرے جانور اداس تھے کیونکہ ان کو کھانے کے لیے ایک بھی کیلا نہیں ملتا تھا۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہاتھی ان کیلوں کو اپنی سونڈ میں ڈال کر کیا کرتے تھے؟

ہاتھی کسی گاؤں میں جاتے کوئی بھی گاؤں جو ان کو پسند ہوتا۔ اور اپنے پروں کو قالین کی طرح بچھا کر پکنک منانے لگتے۔ پورا گاؤں ہاتھیوں کے بوجھ تلے دب جاتا۔ گھر تباہ ہو جتےاور کھیت اجڑ جائے گا اور گاؤں کے لوگ بہت زیادہ پریشان ہوں جاتے۔

بیچارے گاؤں کے لوگ اپنے گھروں کی تباہی کی وجہ سے بہت غصے میں تھے اور جانور اپنے خالی پیٹ کی وجہ سے بہت تکلیف میں تھے۔ پھر خدا نے فیصلہ لیا کہ اب بہت ہو گیا۔یہ مغرور اور لالچی ہاتھی اپنی سونڈ کے لیے بہت بڑے ہو چکے تھے، اور انھیں سبق سکھانے کی ضرورت تھی۔

خدا نے سارے ہاتھیوں کو بات چیت کے لیے بلایا۔ اس نے ان سے کہا، 'اے عظیم ہاتھیوں، میری بات سنو۔ میں تم لوگوں کا بہت  شکر گزار ہوں کہ تم لوگوں نے اس دنیا کو کامل بنانے میں میری مدد کی۔ لہذا میں ایک دعوت رکھنا چاہتا ہوں صرف ہاتھیوں کے لیے۔'

سب ہاتھی بہت خوش ہوئے۔ ایک ہاتھی نے دوسرے ہاتھی سے کہا ، 'دیکھو! خدا بھی ہمیں اتنا بہادر اور مضبوط سمجھتا ہے - ہم نے اس کی کتنی مدد کی ہے۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ اس نے صرف ہمارے لیے دعوت رکھی ہے!'

غرور اور اعتماد سے پھولے ہوئے لالچی ہاتھی ایک ایک کر کے دعوت کے لیے پہنچے۔ وعدے کے مطابق خدا نے ان کے لیے سب سے بہترین کھانا ڈھونڈا تھا اور واں کھانے کے انبار تھے! چمکدار پیلے کیلے۔ گہرے لال انار۔مزیدار امرود اور رس بھرے آم۔۔۔ جتنے بھی پھلوں کے بارے میں آپ تصور کر سکتے ہیں وہ سارے وہاں موجود تھے۔

لالچی ہاتھی بہت زیادہ خوش تھے اور وہ سب کچھ کھا گئے یہاں تک کہ آخری نوالہ بھی۔

کھانا کھانے کے بعد ہاتھیوں کا پیٹ اتنا زیادہ بھرا ہوا تھا ایک ایک کر کے سو گئے۔ کیلوں اور آم کے چھلکے ان کے ارد گرد تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا خدا انتظار کر رہا تھا۔ جب آخری ہاتھی بھی سو گیا تو خدا نے ایک بڑی سی چھری نکالی۔وہ چپکے سے ہر ہاتھی کے پاس گیا اور ان سب کے پر کاٹ دیے۔ اور اس نے یہ خوبصورت پر چھوٹے موروں کو دے دیے۔ چھوٹے مور اس قدر خوش ہوئے کہ وہ جنگل میں بھاگے اور وہاں جا کر ناچنے اور گانے لگے۔

کیا آپ نے کبھی مور کو ناچتے ہو‌ۓ دیکھا ہے،' مور کو ناچتے ہو‌ۓ مور کو ناچتے ہو‌ۓ ؟

کیا آپ نے کبھی مور کو درختوں کے ارد گرد ناچتے دیکھا ہے؟ 

ہاں، میں نے مور کو ناچتے ہو‌ۓ دیکھا ہے۔ مور کو ناچتے ہو‌ۓ ۔مور کو ناچتے ہو‌ۓ ۔

ہاں، میں نے مور کو ناچتے دیکھا ہے درختوں کے ارد گرد ۔

 

*

اب ہاتھیوں کے بارے میں سوچو۔

آخر کار جب ہاتھی اپنی لمبی نیند سے جاگے۔ تو وہ اپنے اوپر خوبصورت موروں کو اپنے متاثر کن پر لہراتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے۔وہ بہت زیادہ غصہ ہو گئے لیکن خدا کے پاس ان کی شکایتیں سننے کا وقت نہیں تھا۔اس کے بجائے اس نے کہا، 'میں چاہتا ہوں کہ آپ ہاتھی اچھے، مہربان بن جائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی طاقت کا استعمال کریں اور گاؤں والوں کو ان کے گھر دوبارہ بنانے میں مدد کریں۔'

 ہاتھی اپنے کیے پر بہت شرمندہ تھے ۔ انہوں نے گاؤں والوں کی ہر ممکن مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔سو آج بھی ہر گاؤں میں ہاتھی آتے ہیں اور جاتے ہیں اور گزرتے ہوئے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

Enjoyed this story?
Find out more here