KidsOut World Stories

ڈک وھیٹنگٹن    
Previous page
Next page

ڈک وھیٹنگٹن

A free resource from

Begin reading

This story is available in:

 

 

 

 

 

ڈک وھیٹنگٹن

 

 

 

 

 

*

ڈک وھیٹنگٹن نام کا ایک غریب لڑکا تھا۔ اس کی دیکھ بھال کے لیے اس ماں باپ نہیں تھے، اس لیے وہ اکثر بہت بھوکا رہتا تھا۔ وہ ملک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ اس نے اکثر لندن نامی ایک دور دراز جگہ کی کہانیوں کے بارے میں سنا تھا جہاں کے سبھی لوگ امیر تھے اور گلیوں میں سونا بچھا ہوا تھا۔

ڈک وھیٹنگٹن نے طے کیا کہ وہ وہاں جائے گا اور اپنی قسمت بنانے کے لیے گلیوں سے ڈھیر سارا سونا کھود کر لائے گا۔ ایک دن اس کی ملاقات ایک مہربان گاڑی والے سے ہوئی جو لندن جارہا تھا اس نے کہا کہ وہ اسے وہاں تک لے جاسکتا ہے، اس طرح وہ وہاں چلا گیا۔ جب وہ بڑے شہر پہنچے تو ڈک کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوا، اسے گھوڑے، گاڑیاں ، سینکڑوں لوگ، بڑی عمارتیں، ڈھیر ساری کیچڑ نظر آرہی تھی، لیکن کہیں بھی سونا دکھائی نہیں دیا۔ وہ مایوس ہوگيا، کہ اب وہ اپنی قسمت کیسے بنائے گا؟ وہ کھاناکیسے خریدے گا؟

 کچھ دنوں بعد وہ اتنا بھوکا تھا کہ نقاہت سے ایک امیر تاجر کے گھر کے سامنے گرگیا۔ تبھی اس گھر سے ایک باورچی عورت باہر نکلی :

"یہاں سے بھاگو" وہ چلائی" گندے پھٹیچر آدمی"اور وہ اسے جھاڑو سے دھکیل کر ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔

اسی وقت تاجر اپنے گھر واپس پہنچا اور، ایک رحم دل آدمی ہونے کے ناتے، اسے بے چارے ڈک پر رحم آگیا۔

"اسے گھر کے اندر لے چلو"اس نے اپنے ملازم کو حکم دیا۔

کھانے اور آرام کرنے کے بعد، ڈک کو باورچی خانے میں کام کرنے کی ملازمت مل گئی۔ وہ تاجر کا بہت شکرگزار تھا، لیکن، افسوس کی بات تھی کہ، عورت باورچی ہمیشہ غصہ کرتی تھی اور، جب کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا تھا تو، وہ اسے پیٹتی اور نوچتی تھی۔ دوسری چیز جو ڈک کو پریشان کرتی تھی وہ یہ کہ اسے گھر کی چھت پر بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں سونا پڑتا تھا اور جس میں چوہے اور موش بھرے ہوئے تھے جو اس کے پورے چہرے پر رینگتے اور اس کی ناک پر کاٹنے کی کوشش کرتے تھے۔

 

 

وہ اتنا پریشان تھا کہ اس نے اپنی سبھی رقم جمع کی اور اس سے ایک بلی خریدی۔ وہ بلی بہت ہی خاص تھی، وہ پورے لندن میں موش اور چوہے پکڑنے والی بہترین بلی تھی۔ کچھ ہفتوں بعد اپنی چالاک بلی کی وجہ سے ڈک کی زندگی زیادہ آسان ہوگئی کیونکہ وہ تمام چوہے اور موش کو کھاگئی اور وہ سکون سے سونے کے قابل ہوگیا تھا۔

کچھ دن بعد ہی، ڈک نے تاجر کو گھر کے سبھی لوگوں سے یہ کہتے سنا کہ اگر کوئی کچھ بیچنا چاہتا ہے تو وہ اسے اس کے جہاز کے بورڈ پر بھیج دے۔ جہاز دنیا کی دوسری طرف لمبے بحری سفر پر جارہا تھا اور کپتان جہاز پر موجود چیزیں فروخت کرسکتا تھا جس سے ان سبھی کو کچھ رقم مل جاتی۔ غریب ڈک کے پاس کیا تھا جو وہ فروخت کرسکتا تھا؟

اچانک ہی، اسے ایک خیال آیا

"جناب، کیا آپ میری بلی لے جائیں گے؟"

سبھی زور سے ہنسنے لگے، لیکن تاجر مسکرایا اور بولا:

"ہاں ڈک، میں لے جاؤں گا، اور اسے بیچ کر ملنے والی ساری رقم تمہاری ہوگی"۔

تاجر کے شہر چھوڑنے کے بعدڈک پھر پرانی حالت میں پہنچ گیا، رات کو موش اور چوہے اس کے چہرے پر رینگتے اور دن میں باورچی کا ناگوار رویہ برداشت کرنا پڑتا تھا کیونکہ اسے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ ڈک نے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا۔

جیسے ہی وہ باہر نکلا کہ چرچ کی بیل بج اٹھی اور وہ جیسے کہہ رہی ہو:

"ڈک وھیٹنگٹن،
لندن کے تین بار کے لارڈ میئر واپس جاؤ."

"یا خدا، یا رحیم ، یاخدا " ڈک نے حیرت زدہ ہوکر سوچا۔ "اگر میں لارڈ میئر بننے والا ہوں تو میرا رک جانا بہتر ہے۔ میں باورچی کے ساتھ رہوں گا اور موش اور چوہوں کو بھگاؤں گا، اور جب میں میئر بنوں گا میں اسے دکھاؤں گا۔

اس لیے وہ واپس آگیا۔

دنیا کی دوسری طرف، تاجر اور اس کا جہاز اپنی منزل مقصود پر پہنچ گيا۔ لوگ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان کا خیر مقدم کیا تاجر نے ان کے راجا رانی کو کچھ تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ راجا، رانی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے ان سبھی کو دعوت پر بلایا۔ لیکن، اس پر یقین کریں یا نہ کریں، جیسے ہی کھانا لایا گيا جادوئی طور پر سینکڑوں چوہے نمودار ہوگئے اور لوگوں کے کھانا کھانے سے پہلے ہی تیزی سے سارا کھانا کھاگئے۔

"اوہ پیارے" راجہ نے کہا "ایسا ہمیشہ ہوتاہے - مجھے کبھی بھی اپنے سیب کا ٹکڑا کھانے کا موقع نہیں ملتا۔ میں کیا کرسکتا ہوں؟"

"میرے پاس ایک آئیڈیا ہے" تاجر نے کہا "میرے پاس ایک بہت ہی خاص بلی ہے جو لندن سے میرے ساتھ آئی ہے ، اور وہ آپ کے چوہوں کو اتنی ہی تیزی سے چٹ کر جائے گی جتنی تیزی سے وہ آپ کے کھانے کو چٹ کرجاتے ہیں۔

کافی یقین دلانے پر، راجا اور رانی کی خوشی کے لیے، اگلی بار دعوت دی گئی اور چوہے نمودار ہوگئے، بلی نے بجلی جیسی تیزی سے چوہوں کو پنجوں سے پکڑا اور مار ڈالا۔

راجا اور رانی خوشی کے مارے ناچنے لگے اور واپسی میں تاجر کو اس مخصوص بلی کے لیے جہاز بھر کر سونا دیا۔

جہاز کے لندن واپس آنے پر تاجر نے ڈک کو اس کی بلی کے لیے جتنا سونا دیا اسے دیکھ کر وہ جذباتی ہوگیا۔ سال بہ سال اس نے اپنی رقم کو عقلمندی سے استعمال کیا، اور اپنے آس پاس اور اپنے لیے کام کرنے والے لوگوں کے لیے بہت سے اچھے کام کیے، جنہوں نے اسے تین بار سٹی آف لندن کا لارڈ میئر منتخب کیا۔ لیکن وہ اپنے مہربان دوست تاجر کو نہیں بھولا، جس نے ایمانداری سے بلی کی وجہ سے ہونے والی ساری کمائی اسے دے دی تھی اور اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھا تھا۔ جب ڈک بڑا ہوا تو اسے ایلس سے پیار ہوگیا، جو اس تاجر کی خوبصورت بیٹی تھی، اور اس سے شادی کی۔ اس کے بعد وہ خوشی سے رہنے لگے جیسا کہ لوگ کہانیوں میں کرتے ہیں۔

"ڈک وھیٹنگٹن،
لندن کے تین بار کے لارڈ میئر واپس جاؤ."

آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے ٹھیک کہا تھا۔

 

 

 

 

 

 

Enjoyed this story?
Find out more here