ہنسل اور گریٹل
A free resource from
KidsOut - the fun and happiness charity
This story is available in:
This story is available in:

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب لکڑہارا تھا۔ وہ ایک جنگل کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں اپنے دو بچوں اور دوسری بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ بچوں کا نام ہنسل اور گریٹل تھا۔ ہنسل گریٹل کا بڑا بھائی تھا۔
ایک دن ان کے پاس کوئی کھانا نہیں تھا۔ لکڑہارے کی بیوی نے اس سے کہا کہ انہیں بچوں کو جنگل میں بھیجنا چاہیے۔وہ چاہتی تھی کہ بچے ہمیشہ کے لیے گم ہو جائیں۔ پھر اس کے اور لکڑہارے کے پاس کھانے کے لیے زیادہ کھانا ہوگا۔
ہنسل نے اپنی مکّار سوتیلی ماں کی باتیں سن لیں۔ وہ باہر گیا اور اپنی جیبوں کو چھوٹے چھوٹے سفید پتھروں سے بھر لیا۔
اگلے دن لکڑہارا اور اس کی بیوی بچوں کو جنگل میں لے کر چلے گئے لکڑہارا بچوں کو جنگل میں چھوڑنے کے لیے راضی نہیں تھا لیکن اس کی بیوی نے اس سے یہ کام کروایا۔
تو ہنسل اور گریٹل وہاں پر اکیلے رہ گئے۔
رات ڈھل گئی اور وہاں پہ کافی سردی ہو گئی۔ گریٹل نے رونا شروع کر دیا۔
"فکر مت کرو،" ہنسل نے کہا۔ "میرا ہاتھ پکڑو اور میں تمہیں گھر لے کر جاؤں گا۔"
جب وہ اس صبح جنگل میں آرہے تھے تو ہنسل چھوٹے سفید پتھروں کو گرا کر راستہ میں نشانات بناتا گیا۔ خوش قسمتی سے چاند روشن تھا اور سفید پتھروں پر چمک رہا تھا ۔ بچے انہی نشانات پر چلتے ہوئے گھر پہنچ گئے۔
لکڑہارے کی بیوی بچوں کو دیکھ کر طیش میں آگئی۔ وہ اپنے شوہر پہ چلائی اور اسے کہا کہ بچوں کو جنگل میں واپس چھوڑ کر آؤ اور انہیں وہاں گم کر دو۔
لکڑہارا بہت اداس تھا مگر وہ اپنی بیوی سے ڈرتا تھا۔لہذا وہ اس کی بات ماننے پر راضی ہو گیا ۔جب ان کو گھر سے نکالا گیا تو ہنسل نے روٹی کا ایک ٹکڑا لے لیا۔ جنگل میں واپس جا تے ہوۓ ہنسل روٹی کے ٹکڑے گراتا گیا۔ وہ دوبارہ نشانیوں کی مدد سے واپس آنا چاہتا تھا۔
جب وہ جنگل کے درمیان میں پہنچے تو بچوں کے باپ نے ان سے معذرت کی اور انہیں بتایا کہ اسے ان کو وہاں چھوڑ کر جانا پڑے گا۔
دوبارہ رات ڈھل گئی لیکن اس بار وہاں پر چاند نہیں تھا۔ بچے ایک ساتھ پیڑ کی چھایہ میں لیٹ گئے اور صبح ہونے تک وہاں سوتے رہے۔
"فکر مت کرو،" ہنسل نے اگلے دن کہا۔ اب ہم روٹی کے ٹکڑوں کی نشانیوں کے ساتھ چل کر گھر جائیں گے۔
لیکن روٹی کے ٹکڑوں کے نشان وہاں نہیں تھے۔ ہنسل نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا کہ پرندے روٹی کے ٹکڑوں کو کھا جائیں گے۔ اور اس بار بچے واقعی میں ہی گم ہو گئے تھے۔
بچے جنگل میں بھٹکتے رہے۔کافی وقت گزر جانے کے بعد انہیں کچھ درختوں کے درمیان ایک مزاحیہ گھر دکھائی دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ گھر جنجر بریڈ سے بنا ہوا ہے اور اس پر آئیسنگ کی گئی ہے۔
ہنسل نے دیوار سے ایک ٹکڑا توڑا۔ اس نے وہ کھایا اور وہ مزیدار تھا۔ پھر گریٹل نے کھڑکی کے کنارے سے ایک ٹکڑا توڑا۔ اس کا ذائقہ بھی بہت اچھا تھا۔ پھر وہ مزیدٹکڑے توڑتے گئے؛ بسکٹ، کیک اور مٹھائیاں۔
اچانک سے دروازہ کھلا اور ایک بوڑھی عورت باہر آئی۔ وہ کوئی مہربان بوڑھی عورت نہیں تھی۔ او ہو! وہ تو ایکچڑیل تھی۔
"اور کھا لو،" چڑیل نے کہا، "اندر آجاؤ!"
ہنسل اور گریٹل خوش ہو گئے کیوں کہ وہ مزید کھا سکتے تھے۔ ہنسل اور گریٹل کو چڑیل نے بہت سارا کھانا کھانے کے لیے دیا۔ اس نے انہیں بے حساب کھانے کے لیے دیا۔اس نے ان کو ضرورت سے زیادہ کھانے کے لیے دیا ۔
شیطانی چڑیل نے ان بچوں کو اپنے تندور میں پکا کر کھانے کا منصوبہ بنایا تھا۔تا ہم اس نے سوچا کہ ان کا ذائقہ زیادہ بہتر ہوگا اگر وہ لاغر نہیں ہوں گے۔ وہ چاہتی تھی کہ انہیں کھانا کھلا تی رہے اور جب وہ موٹے ہو جائیں تو پھر انہیں کھاۓ۔کئی ہفتوں تک ہر روز چڑیل نے ان کو بہت سارا کھانا دیا۔
اس نے گریٹل سے گھر کی صفائی کروائی اور ہنسل کو پنجرے میں بند کر دیا۔ہر رات وہ ہنسل کی انگلیاں مروڑ کر یہ محسوس کرتی تھی کہ وہ کتنا موٹا ہو رہا ہے۔
چڑیل اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اسے صرف دیکھنے کے بجائے ہنسل کی انگلی کو محسوس کرنے کی بھی ضرورت تھی۔لیکن ہنسل ہوشیار تھا. اس نے اپنی جیب میں مرغی کی ایک پرانی ہڈی رکھی تھی۔ ہر رات، وہ چڑیل کو اپنی انگلی کی بجائے اسے مڑورنے کو دیتا۔ چڑیل غصے میں تھی کہ ہنسل کبھی موٹا ہوتے دکھائ نہیں دے رہا تھا۔
ایک دن چڑیل ہنسل کے موٹے ہونے کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی۔ اس نے اپنا تندور جلایا تاکہ وہ لڑکے کو بھون سکے اور لذیذ کھانا کھا سکے۔
اس نے تندور کا دروازہ کھولا اور یہ دیکھنے کے لیے اندر جھانکہ کہ تندور گرم ہوا یا نہیں۔ جیسے ہی چڑیل اس پر جھکی گریٹل بھاگ کر کمرے کے پار گئی اور چڑیل کو تندور کے اندر دھکیل دیا۔ چھوٹی لڑکی نے تندور کا دروازہ زور سے بند کر دیا! کلانگ! چڑیل پھنس چکی تھی!
گریٹل نےجنجر بریڈ سے بنے ہوۓ گھر کی تلاشی لی۔ وہ کیک اور مٹھائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک کمرے میں اسے سونے سے بھرا ہوا صندوق ملا۔ گریٹل کو ہنسل کے پنجرے کی چابی مل گئ۔
اس نے اپنے بھائی کو آزاد کیا۔بچوں نے اپنی جیبوں کو اتنے سونے سے بھر لیا جتنا وہ بھر کے لے جاسکتے تھے اور وہاں سے چل دیے۔
دو دن تک بچے جنگل میں ڈھونڈتے رہے۔ اور آخر کار ان کو اپنا گھر مل گیا اور انہوں نے اپنے والد کو دیکھا۔وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ تمہاری سوتیلی ماں بہت دور جا چکی ہے۔
ہنسل اور گریٹل کو اپنا گھر مل گیا تھا۔ اس کے بعد وہ کبھی غریب یا بھوکے نہیں رہے۔