KidsOut World Stories

ست رنگی سانپ    
Previous page
Next page

ست رنگی سانپ

A free resource from

Begin reading

This story is available in:

 

 

 

 

ست رنگی سانپ

آسٹریلیا کی قبائلی کہانی

 

 

 

  

 

*

کافی عرصہ پہلے ڈریم ٹائم میں قبائلیوں کا ایک گروپ شکار کے لیے نکلا۔ کئی گھنٹوں بعد، وہ کافی تھک گئے اور انہوں نے آرام کرنے کا فیصلہ کیا اور آس پاس بیٹھ گئے، کہانی کہنے اور آگ سے اپنا ہاتھ گرم کرنے لگے، اس میں سے ایک نے اوپر دیکھا۔ افق پر ایک خوبصورت کئی رنگوں والا محراب نما قوس قزح موجود تھا۔ لیکن قدیم باشندوں نے سوچا کہ یہ ایک سانپ ہے جو ایک جل گڑھے سے نکل کر دوسرے میں جارہا ہے اور وہ خوفزدہ ہوگئے کیونکہ نہیں چاہتے تھے کہ اتنا بڑا چمکدار- رنگوں والا سانپ ان کے کیمپ کے نزدیک والے جل گڑھے میں نکلے۔ لیکن وہ شکر گزار تھے کہ وہ ان کے اپنے جل گڑھے کے پاس حرکت کرتا ہوا محسوس نہیں ہوا۔

 


ایک نوجوان آدمی، قوس قزح نماسانپ کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا اس لیے جب وہ واپس گھر آیا، تو اس نے اپنے قبیلے کے بزرگ آدمی کو بتایا کہ شکاری کیوں قوس قزح نما سانپ سے ڈر گئے تھے۔ 

 

بزرگ آدمی نے کہا کہ قوس قزح نماسانپ ڈریم ٹائم کی مخلوق ہے جس نے زمین کو شکل بخشی۔ شروع میں زمین سپاٹ تھی۔ اور قوس ‍ قزح نماسانپ نے زمین تک اپنا راستہ بنایا، اس کے جسم کی حرکت سے پہاڑیں اور وادیاں وجود میں آئیں جہاں ندیاں رہتی ہیں۔ وہ خوابوں کی سرزمین پر سب سے بڑا تھا اور اس کی قوت سے خوابوں کی سرزمین کی تمام مخلوق ڈرتی تھی۔

آخر کار، زمین کو شکل دینے کی کوشش کرتے کرتے تھک کر، قوس قزح نماسانپ جل گڑھے میں رینگ کر چلا گیا جہاں وہ ٹھنڈے پانی میں لیٹ گیا جس سے اسے سکون ملا اور اس کے جسم کے چمکیلے رنگ نرم ہوگئے۔ ہر بار جب جانور جل گڑھے کی طرف جاتے، وہ پانی میں ہلچل پیدا کرنے سے ہوشیار رہتے، حالانکہ وہ اسے نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ وہ وہاں ہے۔ وہ صرف بھاری طوفانی بارش میں ہی باہر آتا جب اس کے جل گڑھے میں ہلچل ہوتی ہے اور جب دھوپ اس کے رنگین جسم کو چھوتی۔

تب وہ جل گڑھے سے باہر آتا اور درختوں کے اوپر سے، بادلوں اور دوسرے جل گڑھے کے میدان تک سفر کرتا۔ لوگ خوفزدہ ہوگئے تھے کہ وہ غصہ میں تھا اور وہ دوبارہ زمین کو متھ سکتا ہے اس لیے اس کے نئے گھر میں جانے تک سبھی لوگ بالکل خاموش رہتے۔ وہاں پہنچنے پر وہ ایک بار پھر پانی کے نیچے غائب ہوگیا اور دکھائی نہیں دیا۔

اس لیے قدیم باشندے قوس قزح نماسانپ کو پریشان نہ کرنے کے معاملے میں محتاط رہتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اسے آسمان میں ایک جل گڑھے سے دوسرے میں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

 

 

 

Enjoyed this story?
Find out more here