KidsOut World Stories

کچھوا اور خرگوش    
Previous page
Next page

کچھوا اور خرگوش

A free resource from

Begin reading

This story is available in:

 

 

 

 کچھوا اور خرگوش 

 

Tortoise and Hare Racing

 

 

ایک زمانے کی بات ہے، آپ کے قریب ہی ایک میدان میں ایک چست اور خوش مزاج خرگوش اور ایک سست کچھوا رہتا تھا۔

خوش مزاج خرگوش کا نام نوئیل تھا اور سست کچھوے کا نام آرکیباڈ تھا۔ آرکیباڈ کچھوے کو بیٹھے رہنا اور اپنا کھانا دھیرے دھیرے کھانا پسند تھا، جب کہ نوئیل خرگوش اپنا کھانا چٹ کرجاتا تھا اور تھک جانے تک آرکیباڈ کے چاروں طرف چکر لگاتا رہتا تھا۔

ایک دن، ان کے بیچ جھگڑا ہوگیا…

نوئیل نے شیخی بگھارتے ہوئےکہا کہ ، "میں پوری دنیا کا سب سے تیزترین جانور ہوں." "میں چیکی چیتا، ککنگ کنگارو اور ریسنگ ریبیٹ سے بھی تیز ہوں."

"اوہ خاموش رہو،" آرکیباڈ نے کہا۔ "تم بہت مغرور ہو! اگر تم نے ڈینگیں مارنی نہیں چھوڑی تو کہیں پھنسوگے…”

"کیوں پھنسوں گا،" نوئیل نے پوچھا۔ "میں ثابت کرسکتا ہوں؟"

آرکیباڈ نے اپنی آنکھیں گھمائی اور کاہو کے کچھ مزیدار پتے چبانے لگا۔

"اوہ تم دونوں جھگڑنا بند کرو،" کوئل نے کہا جو پاس سے ہی اڑ رہی تھی۔

"نہیں، ہم سنجیدہ ہیں،" نوئیل خرگوش نے کہا۔ "میں تم سبھی کو ثابت کردوں گا کہ میں پوری دنیا کا سب سے تیز ترین جانور ہوں!"

"ٹھیک ہے،" آرکیباڈ کچھوے نے کہا۔ "تو پھر میں تم سے دوڑ میں مقابلہ کروں گا!"
نوئیل خرگوش اس کی بات پر ہنسا۔

"تم انتظار کرو اور دیکھو۔" آرکیباڈ نے کہا۔ "ہماری دوڑ کاانتظام کرنے کے لیے عقلمند بزرگ الو ویلیس کو لینا چاہوں گا…”

عقلمند بزرگ الو نے اگلے دن کے دوڑ کا انتظام کیا۔ میدان میں سبھی جانور اپنے بہترین لباس میں ائے، اپنی کھالوں کو سنوارا، اور لہرانے کے لیے جھنڈا لیا اور کچھوے اور خرگوش کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔

"اپنے نشانات پر… تیار ہوجاؤ… جاؤ!” ویلیس نے کہا… اور دوڑ شروع ہوگئی!

دھیرے دھیرے آرکیباڈ کچھوا رفتار پکڑنے لگا اور نوئیل خرگوش تیز، تیز دوڑنے لگا اور جلد ہی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ دراصل، وہ اس سے کافی دور چلا گیا، جب اس نے واپس مڑ کر دیکھا، آرکیباڈ کچھوا کہیں بھی نظر نہیں آیا۔

"بخدا ،" نوئیل نے سوچا۔ "میں نے پہلے ہی تقریبا جیت لیا ہے! میرے خیال میں مجھے اس پیڑ کے نیچے تھوڑی جھپکی لے لینی چاہئے، آج کا دن بہت گرم ہے."۔ نوئیل خرگوش جلد ہی گہری نیند سوگيا۔

اس دوران، آرکیباڈ کچھوا اپنی خول پر دھوپ کے مزے لیتا ہوا اور وقت وقت پر گھاس کترتے ہوئے آرام آرام سے چلتا ہوا جارہا تھا۔ بس وہ محنت کرکے آگے، اور آگے بڑھتا رہا۔ وہ رینگتے ہوئے بلوط کے درخت سے گزرا، اس نے رینگتے ہوئے پل پار کیا، اس نے رینگتے ہوئے گوشالہ کو پار کیا، اس نے رینگتے ہوئے نوئیل خرگوش کو بھی پار کرلیا جو ابھی بھی پیڑ کے نیچے سورہا تھا۔ وہ جیت کی لکیر پر پہنچنے تک رینگتا رہا جہاں عقلمند بزرگ الو اور دوسرے جانور اکٹھا تھے۔ سبھی جانور آرکیباڈ کے گرد جھنڈ بنا کر اس کی حوصلہ افزائی کرنے اور چلانے لگے:

"شاباش! شاباش! تم فاتح ہو!"

اس شور سے نوئیل خرگوش کی آنکھ کھل گئی۔

"او میرے خدا، میرے خدا، یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ شور کیسا ہے؟ فکر نہ کرو۔ بہتر ہے کہ میں دوڑ ختم کرلوں پھر میں دوپہر کے کھانے کے لیے جاسکتا ہوں،" اس نے سوچا۔

نوئیل خرگوش جیت کی لکیر کی جانب پہاڑی سے نیچی دوڑ لگائی۔ لیکن جب وہ وہاں پہنچا، وہ حیرت زدہ رہ گیا، اس نے آرکیباڈ کے گلے میں جیتنے والا گولڈ میڈل دیکھا۔

"یہ صحیح نہیں ہوسکتا! اس نے ضرور دھوکہ دیا ہوگا،" نوئیل خرگوش چلایا۔ "ہر کوئی جانتا ہے کہ میں اس سے تیز ہوں!"

"آرکیباڈ کچھوے نے دھوکہ بازی نہیں کی،" عقلمند بزرگ الو نے کہا۔ "وہ منصفانہ اور ایماندارانہ طور پر جیتا ہے۔ سست رفتاری سے اور یقینی طور پر، ہار نہ مانتے ہوئے، آرکیباڈ پہلے جیت کی لکیر تک پہنچ گيا۔ معاف کرنا پرانے چیمپئین نوئیل، لیکن تم اس دوڑ میں ہار گئے۔ اس سے تمہیں یہ سبق ملا کہ – آہستہ لیکن لگاتار محنت کرنے والا کامیاب ہوتا ہے !”

نوئیل خرگوش کافی ناراض اور اداس لگ رہا تھا۔ آرکیباڈ خرگوش کو اس کے لیے افسوس ہوا اور اس کی حوصلہ افزائی کی کوشش کرنے لگا…

"خوشی مناؤ نوئیل، یہ صرف ایک دوڑ تھی،" آرکیباڈ نے کہا،" مجھے یقین ہے کہ تم اگلی بار جیتو گے۔ اور ہم جب تک دوست رہیں گے سورج کی روشنی کے نیچے ہر ریس جیتیں گے۔"

اور اس دن کے بعد سے وہ بہترین دوست ہوگئے اور نوئیل خرگوش نے کبھی بھی شیخی نہیں بگھاری۔

 

 

Enjoyed this story?
Find out more here